مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران میں گذشتہ ہفتے غیر ملکی دہشت گردوں اور شرپسندوں کے حملوں اور فسادات کے بعد ملک میں مکمل طور پر امن قائم ہوگیا ہے۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کے بعد یورپی یونین نے بھی شرپسند عناصر اور دہشت گردوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایران پر پابندیوں میں مزید اضافے کا اعلان کیا ہے۔
یورہی کمیشن کے سربراہ اورسلا فونڈرلائن نے کہا کہ انتہا پسند مظاہرین کی حمایت کے تحت تہران پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
اس سے پہلے ایران میں حالات پرامن ہونے کے بعد برطانیہ اور بعض دیگر یورپی ممالک نے ایرانی سفیروں کو دفتر خارجہ بلاکر احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔
امریکہ اور یورپی ممالک کے ان اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ ایرانی عوام کی حمایت کے بیانات کے پیچھے ایرانی عوام کے ساتھ دشمنی چھپی ہوئی ہے۔ پابندیوں میں سختی حمایت نہیں بلکہ دشمنی کی علامت ہے۔
آپ کا تبصرہ